MOJ E SUKHAN

یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا

یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا
جیسے درخت سے کوئی پتا گرا ہوا

ہو ہی گیا ہے نبض شناس غم جہاں
سینے میں عشق کے مرا دل کانپتا ہوا

ملتا سراغ خاک مجھے میرے سائے کا
ہر سمت ظلمتوں کا تھا جنگل اگا ہوا

کل رات خواب میں جو مقابل تھا آئنہ
میرا ہی قد مجھے نظر آیا بڑھا ہوا

جانے بھی دو وہ چاند نہیں ہوگا کوئی اور
پامال آدمی جو ہوا چاند کیا ہوا

باہر کے شور و غل ہی سے شاید وہ بول اٹھے
بیٹھا ہے کب سے چپ کوئی اندر چھپا ہوا

پنچھی اڑا تو ختم بھی ہو جائے گا ضیاؔ
سانسوں کے آنے جانے کا تانتا بندھا ہوا

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم