MOJ E SUKHAN

یوں لگا جیسے کہ سرکار ﷺکی مدحت نہیں کی

یوں لگا جیسے کہ سرکار ﷺکی مدحت نہیں کی
پڑھ کے قرآن جو قرآں کی زیارت نہیں کی

نعت لکھتے ہوئے بھولا جو تری آل کوئی
اس نے الفت بھلے کی ہوگی، مودت نہیں کی

مجھکو سرکار ﷺ نے مہمانِ مدینہ رکھا
دل نے تب سے مرے اس شہر سے ہجرت نہیں کی

جس کے اقوال سے نفرت کا تاثر ابھرے
ایسے راوی سے کبھی میں نے روایت نہیں کی

سر جھکاتا ہوں جو لے نام ِ ابوبکر کوئی
جس نے سرکار کے دشمن سے رعایت نہیں کی

خوشبوئے نعت تو خود اسکا پتہ دے دے گی
اس امانت میں اگر تونے خیانت نہیں کی

مجھکو سب حرف مرے رب کی عنائت سے ملے
نعت لکھتے ہوئے میں نے تو ریاضت نہیں کی

حرف ِ مِدحت لئے آیات کشیدہ کرکے
سب ہے قرآں کا دیا میں نے تو محنت نہیں کی

قاسمِ کون و مکاں ﷺ کا جو تصرف دیکھو
دستِ قدرت میں تھی ہر شے پے حکومت نہیں کی

جس کسی نے بھی دکھایا دلِ اہلِ اطہار
میرے مولا نے بھی اس شخص پہ رحمت نہیں کی

علم کا در بھی علی اور ہو امت کا امام
اس طرح سے تو کسی نے بھی خلافت نہیں کی

مطلع و مقطع تلک روئے سخن آقاﷺ تھے
لکھتا کیسے میں تخلص سو یہ جراءت نہیں کی

ابنِ مفتی سید ایاز مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم