MOJ E SUKHAN

یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے

یوں نہ ٹپکا تھا لہو دیدۂ تر سے پہلے
دیکھنا آگ لگی پھر اسی گھر سے پہلے

جیسے جیسے در دل دار قریب آتا ہے
دل یہ کہتا ہے کہ پہنچوں میں نظر سے پہلے

نامۂ یار پڑھوں میں ابھی جلدی کیا ہے
نامہ بر کو تو لگا لوں میں جگر سے پہلے

بے حجابی جو سہی ہے تری شوخ آنکھوں کی
رسم پردے کی اٹھے گی اسی گھر سے پہلے

اے جلیلؔ آپ بھی کس دھیان میں ہیں خیر تو ہے
خواہش قدر ہنر کسب ہنر سے پہلے

جلیل مانک پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم