MOJ E SUKHAN

یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کر

یوں نہ گلیوں میں پھرو کانچ کے پیکر لے کر
لوگ حاسد ہیں نکل آئیں گے پتھر لے کر

جبکہ ہم چھو نہ سکیں ‌ دل سے لگا بھی نہ سکیں
کیا کریں گے تجھے اے مہر منور لے کر

تم ذرا چپکے سے سورج کو خبر کر دینا
رات آجائے یہاں جب مہ و اختر لے کر

کون سے کوچے میں آخر تجھے چین آئے گا
ہم کہاں جائیں تجھے اے دل مضطر لے کر

وقت سے پہلے یہاں حسن پگھل جاتا ہے
صبح آتی ہے مگر شام کا منظر لے کر

واجد امیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم