MOJ E SUKHAN

یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ

غزل

یوں ہی جلائے چلو دوستو بھرم کے چراغ
کہ رہ نہ جائیں کہیں بجھ کے یہ الم کے چراغ

ہر ایک سمت اندھیرا ہے ہو کا عالم ہے
جلاؤ خوب جلاؤ ندیم جم کے چراغ

جہاں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں اب خوشی کی کرن
کہا تھا کس نے جلاؤ حضور غم کے چراغ

وفا کا ایک ہی جھونکا نہ سہہ سکے ظالم
تری طرح ہی یہ نکلے تیری قسم کے چراغ

بجھا دئیے ہیں وہیں گردش زمانہ نے
جلائے جس نے جہاں بھی کہیں ستم کے چراغ

انہیں سے ملتی رہی منزلوں کی لو مجھ کو
بہت ہی کام کے نکلے رہ عدم کے چراغ

کنولؔ انہیں سے ملے روشنی کہیں شاید
جلا رہا ہوں یہی سوچ کر قلم کے چراغ

ڈی راج کنول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم