MOJ E SUKHAN

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی

غزل

یوں ہی وابستگی نہیں ہوتی
دور سے دوستی نہیں ہوتی

جب دلوں میں غبار ہوتا ہے
ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتی

چاند کا حسن بھی زمین سے ہے
چاند پر چاندنی نہیں ہوتی

جو نہ گزرے پری وشوں میں کبھی
کام کی زندگی نہیں ہوتی

دن کے بھولے کو رات ڈستی ہے
شام کو واپسی نہیں ہوتی

آدمی کیوں ہے وحشتوں کا شکار
کیوں جنوں میں کمی نہیں ہوتی

اک مرض کے ہزار ہیں نباض
پھر بھی تشخیص ہی نہیں ہوتی

ابنِ صفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم