MOJ E SUKHAN

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں
سبھی چلتے ہوں جس پر ہم وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں

قلم میں زور جتنا ہے جدائی کی بدولت ہے
ملن کے بعد لکھنے والے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں

کبھی سیراب کر جاتا ہے ہم کو ابر کا منظر
کبھی ساون برس کر بھی پیاسا چھوڑ دیتے ہیں

زمیں کے مسئلوں کا حل اگر یوں ہی نکلتا ہے
تو لو جی آج سے ہم تم سے ملنا چھوڑ دیتے ہیں

مہذب دوست آخر ہم سے برہم کیوں نہیں ہوں گے
سگ اظہار کو ہم بھی تو کھلا چھوڑ دیتے ہیں

جو زندہ ہو اسے تو مار دیتے ہیں جہاں والے
جو مرنا چاہتا ہو اس کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں

مکمل خود تو ہو جاتے ہیں سب کردار آخر میں
مگر کم بخت قاری کو ادھورا چھوڑ دیتے ہیں

وہ ننگ آدمیت ہی سہی پر یہ بتا اے دل
پرانے دوستوں کو اس طرح کیا چھوڑ دیتے ہیں

یہ دنیا داری اور عرفان کا دعویٰ شجاعؔ خاور
میاں عرفان ہو جائے تو دنیا چھوڑ دیتے ہیں

شجاع خاور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم