MOJ E SUKHAN

یہاں جو بھی تھا تنہا تھا یہاں جو بھی ہے تنہا ہے

غزل

یہاں جو بھی تھا تنہا تھا یہاں جو بھی ہے تنہا ہے
یہ دنیا ہے یہ دنیا ہے اسی کا نام دنیا ہے

نہ بولا ان سے جاتا ہے نہ دیکھا ان سے جاتا ہے
یہاں گونگوں کی بستی ہے یہاں اندھوں کا پہرا ہے

وہ منزل تھی تحیر کی یہ منزل ہے تفکر کی
وہاں پردہ بھی جلوہ تھا یہاں جلوہ بھی پردا ہے

وہ عالم تھا تعین کا وہاں پردہ ہی پردہ تھا
یہ عالم ہے تیقن کا یہاں جلوہ ہی جلوہ ہے

سبھی مجروح ہیں اس صید گاہ عیش و حرماں میں
کسی کا زخم اوچھا ہے کسی کا زخم گہرا ہے

جو وہ اک خوش خیالی تھی تو یہ اک کم نگاہی ہے
نہ وہ پھولوں کا گلشن تھا نہ یہ کانٹوں کا صحرا ہے

وہ اہل قال کی مجلس یہ اہل حال کی مجلس
وہاں جو کچھ تھا ماضی تھا یہاں جو کچھ ہے فردا ہے

یہ ندی تو نہیں جو آب شیریں دے سکے تم کو
ہے پانی اتنا ہی نمکیں سمندر جتنا گہرا ہے

یہاں ترشے ہوئے لفظوں کا سکہ چل نہیں سکتا
یہ بازار معانی ہے یہاں موتی بھی قطرہ ہے

جمیلؔ آنکھوں کے پٹ کھولو اسے بھی اک نظر تولو
وہ نیرنگ تصور تھا یہ نیرنگ تماشا ہے

جمیل مظہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم