MOJ E SUKHAN

یہی ہوا ہے جو اس رہ گزر سے گزرے ہیں

غزل

یہی ہوا ہے جو اس رہ گزر سے گزرے ہیں
ہزار حشر کے منظر نظر سے گزرے ہیں

وہ راہیں آج بھی نقش وفا سے ہیں روشن
مزاج دان محبت جدھر سے گزرے ہیں

خدا کرے نہ وہ گزریں کسی کی نظروں سے
جو سیل درد و بلا میرے سر سے گزرے ہیں

چھپائے آنکھوں میں آنسو دلوں میں درد و فغاں
وفا شناس یوں ہی تیرے در سے گزرے ہیں

تلاش یار میں ہم کیا ڈریں مصیبت سے
ہزار بار رہ پر خطر سے گزرے ہیں

کھلا گئے ہیں محبت کے پھول کانٹوں میں
تمہارے چاہنے والے جدھر سے گزرے ہیں

دل و جگر میں اجالا ہے آج تک جن کا
کچھ ایسے جلوے بھی کشفیؔ نظر سے گزرے ہیں

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم