MOJ E SUKHAN

یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگا

غزل

یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگا
نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگا

تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی
ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہوگا

میں سوچتا رہا کل رات بیٹھ کر تنہا
کہ اس ہجوم میں میرا شمار کم ہوگا

پلٹ تو آئے گا شاید کبھی یہی موسم
ترے بغیر مگر خوش گوار کم ہوگا

بہت طویل ہے آنسؔ یہ زندگی کا سفر
بس ایک شخص پہ دار و مدار کم ہوگا

آنس معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم