MOJ E SUKHAN

یہ بات دشت وفا کی نہیں چمن کی ہے

یہ بات دشت وفا کی نہیں چمن کی ہے
چمن کی بات بھی زخموں کے پیرہن کی ہے

ہوائے شہر بہت اجنبی سہی لیکن
یہ اس میں بوئے وفا تیری انجمن کی ہے

میں بت تراش ہوں پتھر سے کام ہے مجھ کو
مگر یہ طرز ادا تیرے بانکپن کی ہے

لپک تو شعلہ کی فطرت ہے پھر بھی کیا کیجے
کہ اس میں پھول سی رنگت تیرے بدن کی ہے

یہ میری وادئ جاں ناگ پھن کا جنگل ہے
یہ خوشبوؤں کی ردا شاخ یاسمن کی ہے

میرے جنوں کی سزا سنگسار ہونا ہے
لہو لہو یہ قبا کیوں نگار فن کی ہے

یہ دل تو شعلۂ افسردہ ہے مگر تنویرؔ
مری رگوں میں تپش گرمیٔ سخن کی ہے

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم