MOJ E SUKHAN

یہ بھی شاید ترا انداز دل آرائی ہے

یہ بھی شاید ترا انداز دل آرائی ہے
ہم نے ہر سانس پہ مرنے کی سزا پائی ہے

کیسا پیغام کہاں سے یہ صبا لائی ہے
شاخ گل صبح بہاراں ہی میں مرجھائی ہے

دل کے آباد خرابے میں نہ شب ہے نہ سحر
چاندنی لے کے تری یاد کہاں آئی ہے

تو مرے چاک گریباں سے تو محجوب نہ ہو
میں نے کب تیری محبت کی قسم کھائی ہے

تجھ کو اس طرح بھی دیکھا ہے مری آنکھوں میں
تیری آواز کی تصویر اتر آئی ہے

تیری محفل میں کہ مقتل میں کہیں دیکھا تھا
زندگی سے مری بس اتنی شناسائی ہے

کیا ترا حال بھی اے انجمن آرا ہے یہی
میں ترے پاس ہوں لیکن وہی تنہائی ہے

سلیمان اریب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم