MOJ E SUKHAN

یہ تو انجانے میں عادت سی بنا لی میں نے

یہ تو انجانے میں عادت سی بنا لی میں نے
بات کہنی تھی جو شعروں میں سنا لی میں نے

میرے اشعار کی گرمی، مرے لہجے کا اثر
بزم کی بزم ہی ہمدرد بنا لی میں نے

کوئی آئے کہ نہ آئے نہیں پڑتا کچھ فرق
بس کسی شخص کی عادت نہیں ڈالی میں نے

تو حفاظت سے بہت دل کو رکھا کرتا تھا
یہ ہی دولت تھی تری آج چرا لی میں نے

تجھ سے مل کر مجھے رنگوں سے ہوئی یوں الفت
شعر اترا ہے کہ تصویر بنالی میں نے

کہنے کو بات ہوئی اس سے زمانے بھر کی
دل کی اک بات تو دل میں ہی چھپا لی میں نے

میں نے سوچا تھا محبت نہ کروں گی شمسؔہ
اس کو دیکھا تو یہ پابندی ہٹا لی میں نے

شمسہ نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم