MOJ E SUKHAN

یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیں

یہ جاں گداز سفر دام خواب ہو نہ کہیں
رواں ہے جس میں سفینہ سراب ہو نہ کہیں

یوں ہی اترتا نہ جا سرد گہرے پانی میں
چمکتا ہے جو بہت سحر آب ہو نہ کہیں

کھڑا جو جھانکتا ہے کب سے گرم کمروں میں
گلی میں ٹھٹھرا ہوا ماہتاب ہو نہ کہیں

ہوا یہ کون سی چلتی ہے آر پار مرے
کھلا ہوا کسی خواہش کا باب ہو نہ کہیں

دلوں پہ کیوں نہیں کرتیں اثر تری باتیں
زمیں تو ٹھیک ہے پانی خراب ہو نہ کہیں

غبار سے بھری بوجھل فضا ہے دل پہ محیط
گرج رہا ہے جو سر میں سحاب ہو نہ کہیں

سجائے پھرتا ہے وہ جس کو کوٹ پر شاہیںؔ
مرے ہی خوں کا مہکتا گلاب ہو نہ کہیں

جاوید شاہین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم