MOJ E SUKHAN

یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من

غزل

یہ جو صراحی جام گھڑے ہیں جناب من
خالی کسی سبب سے پڑے ہیں جناب من

وعدوں کے جس مقام پہ چھوڑا تھا آپ نے
ہم آج تک وہیں پہ کھڑے ہیں جناب من

دولت نہیں تو کیا ہے مری شاعری تو ہے
ہر ہر غزل میں موتی جڑے ہیں جناب من

یہ جو مچی ہے بانس کے جنگل میں کھلبلی
ہم جوگیوں کو سانپ لڑے ہیں جناب من

گنوا رہے تھے عیب مرے تھوڑی دیر قبل
اب شرم سے زمیں میں گڑے ہیں جناب من

کج بحثیے بھی فہم و فراست میں کم نہیں
شاعر بھی آپ جیسے بڑے ہیں جناب من

راہ جنوں میں ساتھ مقدر ہی دے تو دے
یہ مرحلے ہنوز کڑے ہیں جناب من

ایسا نہیں کہ پھول درختوں ہی سے گرے
کچھ شاخ چشم سے بھی جھڑے ہیں جناب من

یا تو مشاعرے کو اٹھاتا ہے یہ فقیر
یا وہ کہ جن کے بال بڑے ہیں جناب من

اکرام جھولتے ہیں محبت کے پیڑ سے
کچھ دن سے شاخ دل پہ اڑے ہیں جناب من

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم