MOJ E SUKHAN

یہ حکایت تمام کو پہنچی

غزل

یہ حکایت تمام کو پہنچی
زندگی اختتام کو پہنچی

رقص کرتی ہوئی نسیم سحر
صبح تیرے سلام کو پہنچی

روشنی ہو رہی ہے کچھ محسوس
کیا شب آخر تمام کو پہنچی

شب کو اکثر کلید مے خانہ
شیخ عالی مقام کو پہنچی

شہر کب سے حصار درد میں ہے
یہ خبر اب عوام کو پہنچی

پہلے دو ایک قتل ہوتے تھے
نوبت اب قتل عام کو پہنچی

سب کا انجام ایک جیسا ہے
صبح روشن بھی شام کو پہنچی

موت بالکل قریب ہے شاید
صبح کو پہنچی شام کو پہنچی

اسلم فرخی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم