MOJ E SUKHAN

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے

یہ دور مسرت یہ تیور تمہارے
ابھرنے سے پہلے نہ ڈوبیں ستارے

بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو
کہاں تک چلو گے کنارے کنارے

عجب چیز ہے یہ محبت کی بازی
جو ہارے وہ جیتے جو جیتے وہ ہارے

سیہ ناگنیں بن کے ڈستی ہیں کرنیں
کہاں کوئی یہ روز روشن گزارے

سفینے وہاں ڈوب کر ہی رہے ہیں
جہاں حوصلے ناخداؤں نے ہارے

کئی انقلابات آئے جہاں میں
مگر آج تک دن نہ بدلے ہمارے

رضاؔ سیل نو کی خبر دے رہے ہیں
افق کو یہ چھوتے ہوئے تیز دھارے

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم