MOJ E SUKHAN

یہ رات کاش اسی دل کشی سے ڈھلتی رہے

یہ رات کاش اسی دل کشی سے ڈھلتی رہے
افق کے پاس پہاڑوں میں آگ جلتی رہے

دراز تر ہو خیالوں کی بستیوں کا سفر
مری تلاش صدا زاویے بدلتی رہے

کوئی چراغ نہ میرے حریم غم میں جلے
خود اپنی آنچ میں یہ تیرگی پگھلتی رہے

شکستہ ہو کے بھی نومید ہو نہ دل تیرا
بجھے چراغ میں بھی روشنی مچلتی رہے

سفینے ڈوب گئے کتنے دل کے ساگر میں
خدا کرے تری یادوں کی ناؤ چلتی رہے

حسن جلیل اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم