MOJ E SUKHAN

یہ زینب نام کا جو واقعہ ہے

یہ زینب نام کا جو واقعہ ہے
اسی میں گویا اک محشر بپا ہے

مجھے اک عمر تو شکوہ رہا ہے
مگر اب تو سکوں سا آ گیا ہے

تمہیں تہذیب لانے کی پڑی ہے
مگر ،بھوکے کا، روٹی مسئلہ ہے

بھلا بیٹھے ہیں ہم آ کر جہاں میں
ہمیں کس واسطے بھیجا گیا ہے

محبّت اور ہَوس ہم شکل ہیں اب
سو اب پہچاننے کا مسئلہ ہے

یہ جو اک نام ہے نامِ محبّت
یہ میرے دل کو جیسے چیرتا ہے

جہاں بھی آبلے پیروں کے چیخے
میں یہ سمجھی مرا گھر آ گیا ہے

کتابوں میں پڑھا ہے جو بھی میں نے
یہ دنیا تو بہت اس سے جدا ہے

نہ جانے کیوں کسی کی بے بسی پر
مِرے اندر بھی کوئی چیختا ہے

محبت ہی محبت بس محبت
یہ ہر انسان کا ہی مسئلہ ہے

کمی کر دے سزا میں اب تو یارب
لہو اب ایڑیوں تک آ گیا ہے

ثبین سیف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم