MOJ E SUKHAN

یہ شیشہ سچ پہ آمادہ نہیں ہے

یہ شیشہ سچ پہ آمادہ نہیں ہے
جو دکھتا ہے مرا چہرہ نہیں ہے

یہ راہِ عشق ہے چلنا سنبھل کے
یہاں سیدھا کوئی رستہ نہیں ہے

بساطِ عشق پر کیا چال چلتا
کہ خالی کوئی بھی خانہ نہیں ہے

یہ صحرا میں سرابوں کا سفر ہے
نظر آتا ہے جو دریا نیہں ہے

یہ کیسی شام اتری ہے نگر میں
کہ روشن ایک بھی چہرہ نہیں ہے

یہاں بس مصلحت ہی مصلحت ہے
کسی کا کوئی دلدادہ نہیں ہے

گذرتا وقت تو گذرے گا ثاقب
جو ٹہرے یہ وہ سرمایہ نہیں ہے

سہیل ثاقب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم