یہ عشق ہے یہاں جو بھی وفا پرست ہوا
صدائے گردشِ دوراں ، نوائے دشت ہوا
بکھر کے رہ گیا دنیا میں مثلِ گرد و غبار
محبتوں کے مقابل جو تاج و تخت ہوا
جو ایک بوڑھا شجر تھا محبتوں کا امیں
کٹا تو دار کا ساماں وہی درخت ہوا
شکم کی آگ توانائیاں بڑھاتی رہی
تھکن سے جب کوئی آمادہء شکست ہوا
اساس لُوٹنے والوں میں نام تھا جس کا
بہار لَوٹ کے آئی تو سرپرست ہوا
کسی نے مجھ کو صدا دی کہ پھر گُماں ہے ضیاء!
یہ کچھ سُنا سا ہے لہجہ جو باز گشت ہوا
ضیاء زیدی