MOJ E SUKHAN

یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے

غزل

یہ عمر صد بلا جو اپنے ہی سر گئی ہے
تھوڑی گزار لیں گے تھوڑا گزر گئی ہے

یا موند لیں ہیں آنکھیں یا مند گئیں ہیں آنکھیں
تجھ پر پس تماشا کیا کیا گزر گئی ہے

ممکن نہیں ہے شاید دونوں کا ساتھ رہنا
تیری خبر جب آئی اپنی خبر گئی ہے

شور خزاں ہے گھر میں دیوار و بام و در میں
در پر سواری کل آ کر ٹھہر گئی ہے

معلوم ہی نہیں ہے کچھ فرق ہی نہیں ہے
یہ دن گزر گیا ہے یا شب گزر گئی ہے

ہر گل بدن کو تکنا آنکھوں سے چوم رکھنا
دیوانگی ہماری حد سے گزر گئی ہے

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم