MOJ E SUKHAN

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں

غزل

یہ غم نہیں ہے کہ اب آہ نارسا بھی نہیں
یہ کیا ہوا کہ مرے لب پہ التجا بھی نہیں

ستم ہے اب بھی امید وفا پہ جیتا ہے
وہ کم نصیب کہ شائستۂ جفا بھی نہیں

نگاہ ناز عبارت ہے زندگی جس سے
شریک درد تو کیا درد آشنا بھی نہیں

سمجھ رہا ہوں امانت متاع صبر کو میں
اگرچہ اب نگہ صبر آزما بھی نہیں

وہ کاروان نشاط و طرب کہاں ہمدم
جو ڈھونڈھئے تو کہیں کوئی نقش پا بھی نہیں

ہے دل کے واسطے شمع امید و مشعل راہ
وہ اک نگاہ جسے دل سے واسطہ بھی نہیں

کوئی تبسم جاں بخش کو ترستا ہے
شہید عشوۂ رنگیں کا خوں بہا بھی نہیں

یہ کیوں ہے شعلۂ بیتاب کی طرح مضطر
مری نظر کہ ابھی لطف آشنا بھی نہیں

بہ شکل قصۂ دار و رسن نہ ہو مشہور
وہ اک فسانۂ غم تم نے جو سنا بھی نہیں

تمام حرف و حکایت مٹا گئی دل سے
نگاہ ناز نے کہنے کو کچھ کہا بھی نہیں

وہ کشتۂ کرم یار کیا کرے کہ جسے
بہ ایں تباہیٔ دل شکوۂ جفا بھی نہیں

حبیب احمد صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم