MOJ E SUKHAN

یہ مت سمجھنا کہ میں مسافت سے ہار بیٹھا

یہ مت سمجھنا کہ میں مسافت سے ہار بیٹھا
نکالنے کو میں اپنے پاؤں سے خار بیٹھا

مرا کسی سے مقابلہ تو نہیں تھا لیکن
نقاب چہرے سے میں عدو کے اتار بیٹھا

کسی کے لہجے کی دلکشی کو کشید کرکے
اداس رُت کی سماعتوں کو نکھار بیٹھا

میں دورِ ماضی کی تلخیوں کو بھلا چکا ہوں
گزارنی تھی جو تلخ و شیریں گزار بیٹھا

میں اس کے رستے سے سنگریزے ہٹا رہا ہوں
اُدھر وہ دیتا ہے اپنے خنجر کو دھار بیٹھا

وفا کا میری اسے ابھی تک یقیں نہیں ہے
وہ کر رہا ہے شکایتوں کو شمار بیٹھا

وہ ایک صحرا کہ جس کی پانی طلب رہی ہے
مگر میں دریا سمندروں میں اتار بیٹھا

بہت چھپایا تھا رازِ دل کو سبھی سے اس نے
جنوں کی منزل پہ وہ ضیاء کو پکار بیٹھا

ضیاء زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم