MOJ E SUKHAN

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے

یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

باریابی کا برا ہو کہ اب ان کے در پر
اگلے وقتوں کی مدارات نہیں ہوتی ہے

غم تو گھنگھور گھٹاؤں کی طرح اٹھتے ہیں
ضبط کا دشت ہے برسات نہیں ہوتی ہے

یہ مرا تجربہ ہے حسن کوئی چال چلے
بازیٔ عشق کبھی مات نہیں ہوتی ہے

وصل ہے نام ہم آہنگی و یک رنگی کا
وصل میں کوئی بری بات نہیں ہوتی ہے

ہجر تنہائی ہے سورج ہے سوا نیزے پر
دن ہی رہتا ہے یہاں رات نہیں ہوتی ہے

ضبط گریہ کبھی کرتا ہوں تو فرماتے ہیں
آج کیا بات ہے برسات نہیں ہوتی ہے

مجھے اللہ کی قسم شعر میں تحسین بتاں
میں جو کرتا ہوں میری ذات نہیں ہوتی ہے

فکر تخلیق سخن مسند راحت پہ حفیظ
باعث کشف و کرامات نہیں ہوتی ہے

حفیظ جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم