MOJ E SUKHAN

یہ نہ پوچھو کس طرح حاصل ہوا کیوں کر ملا

یہ نہ پوچھو کس طرح حاصل ہوا کیوں کر ملا
جستجو کام آگئی میری تو ان کا در ملا

دل بھی ملتا اور آنکھیں بھی تو تھا ملنے کا لطف
یوں تو ملنے کے لئے یہ بے وفا اکثر ملا

حسن والوں میں تھا جلوہ کس کے حسنِ پاک کا
جو ملا عمدہ ملا، اچھا بلا بہتر ملا

شکوۂ بے داد کی ہمت نہ مجھ کو ہو سکی
عرصۂ محشر میں یوں وہ فتنۂ محشر ملا

جامِ صہبا کو ہے شاید جامِ جم سے کچھ لگاؤ
سارے پردے اُٹھ گئے میکش کو جب ساغر ملا

طور کی عظمت مرے دل میں سمائی اس قدر
اپنا ماتھا رکھ دیا جو راہ میں پتھر ملا

رکھتے تھے در پردہ مطلب ملنے والے آپ کے
کچھ ملا تا زندگی بے لوث تو افسر ملا

افسر صدیقی امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم