MOJ E SUKHAN

یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو

غزل

یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو
وہ ساتھ ہے تو ذرا ہماری خوشی تو دیکھو

بہت حسیں رات ہے مگر تم تو سو رہے ہو
نکل کے کمرے سے اک نظر چاندنی تو دیکھو

جگہ جگہ سیل کے یہ دھبے یہ سرد بستر
ہمارے کمرے سے دھوپ کی بے رخی تو دیکھو

دمک رہا ہوں ابھی تلک اس کے دھیان سے میں
بجھے ہوئے اک خیال کی روشنی تو دیکھو

یہ آخری وقت اور یہ بے حسی جہاں کی
ارے مرا سرد ہاتھ چھو کر کوئی تو دیکھو

ابھی بہت رنگ ہیں جو تم نے نہیں چھوئے ہیں
کبھی یہاں آ کے گاؤں کی زندگی تو دیکھو

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم