MOJ E SUKHAN

یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہے

غزل

یہ کس نے عہد فراموش سے صدا دی ہے
ابھی چراغ جلائے ہی تھے ہوا دی ہے

یہ ورثہ ہم سے نئی نسل کو کبھی نہ ملے
زباں ہمارے بزرگوں نے بے نوا دی ہے

خراج آرزوئے موسم بہار ہے یہ
لہو لہو جو مرے پیرہن کی وادی ہے

کوئی بھی گھر سے نہ نکلے چراغ دل لے کر
امیر شہر کی یہ شہر میں منادی ہے

ملی ہے یہ مہ و انجم سے دوستی کی سزا
کہ آفتاب نے بینائی تک جلا دی ہے

کہاں سے کاٹو گے کل تم مسرتیں عابدؔ
یہ فصل اشک جو ہر آنکھ میں اگا دی ہے

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم