MOJ E SUKHAN

یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہ

غزل

یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہ
نہ شکایت غم دل نہ حکایت زمانہ

وہ اثر بھری نصیحت وہ کلام عارفانہ
کہ لگا رہا ہو جیسے کوئی دل پہ تازیانہ

جسے کافری سے رغبت جسے ذوق ملحدانہ
اسے کیوں پسند آئے رہ و رسم مومنانہ

ہے ستم کی دھند چھائی ہے جفا کی فصل آئی
ہے چمن پہ ایسا پہرا کہ قفس ہے آشیانہ

مجھے یاد آ رہی ہیں تری محفلوں کی باتیں
وہ شکایتوں کا دفتر وہ حکایت شبانہ

ترے حکم سے الگ ہو ترے نور سے جدا ہو
مری زندگی میں باقی نہیں ایسا کوئی خانہ

نظر کرم سے مجھ کو کبھی دیکھ لے وہ شاید
مرے دل کی آرزو ہے وہ جمال جاودانہ

ہے عروجؔ یہ سعادت یہ ہے جیل کی مسرت
کہ تہاڑ میں ادا ہو تری عید کا دوگانہ

عروج قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم