MOJ E SUKHAN

ایسا نہیں کہ دھیان جفا تک نہیں گیا

ایسا نہیں کہ دھیان جفا تک نہیں گیا
تم سے ملے بغیر رہا تک نہیں گیا

کیا رنگ تھے جو ہم سے سمیٹے نہیں گئے
کیا خواب تھا جو ہم سے لکھا تک نہیں گیا

اک قہقہوں کی گونج تھی جو گونجتی رہی
اک دل کا شور تھا جو سنا تک نہیں گیا

آئی ہوا خود آپ بجھانے چراغ کو
کوئی چراغ لے کے ہوا تک نہیں گیا

کیا آگ تھی کہ جس میں سلگتے رہے ہیں ہم
کیا رنج تھا جو ہم سے کہا تک نہیں گیا

(کاشف حسین غائر)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم