MOJ E SUKHAN

14 اگست

رات آئی ہے خوشیاں لٹاتے ہوئے
آئینوں کی دکانیں سجاتے ہوئے
گیت گاتے ہوئے گنگناتے ہوئے
نغمہء جسم وجاں یہ سناتے ہوئے
آج ہم کو ملا ہے ہمارا وطن

یہ وطن جو کہ خوابوں کی تعبیر ہے
یہ وطن جو شہیدوں کی جاگیر ہے
اس سے روشن زمانے کی تقدیر ہے
سب کے ہونٹوں پہ یہ زور تقریر ہے
آج ہم کو ملا ہے ہمارا وطن

دامن دل پہ لکھا ہوا ہے یہی
آب اور گل پہ لکھا ہوا ہے یہی
صفحہء دل پہ لکھا ہوا ہے یہی
ایک اک تل پہ لکھا ہوا ہے یہی
آج ہم کو ملا ہے ہمارا وطن

یہ وطن وہ وطن ہے کہ جس کے لیے
ہم نے روشن کیے دست شب پر دیے
اس کے ذروں میں آئینے ہم کو ملے
جو بھی دیکھے اسے وہ یہ خود سے کہے
آج ہم کو ملا ہے ہمارا وطن

موج بحر عرب اس میں بہتے ہوئے
مسکن جان راحت میں رہتے ہوئے
پانیوں کے تھپیڑوں کو سہتے ہوئے
بہہ رہی ہے ادب سے یہ کہتے ہوئے
آج ہم کو ملا ہے ہمارا وطن

رونق حیات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم