MOJ E SUKHAN

سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے

غزل

سامنے سب کے نہ بولیں گے ہمارا کیا ہے
چھپ کے تنہائی میں رو لیں گے ہمارا کیا ہے

گلشن عشق میں ہر پھول تمہارا ہی سہی
ہم کوئی خار چبھو لیں گے ہمارا کیا ہے

عمر بھر کون رہے ابر کرم کا محتاج
داغ دل اشکوں سے دھو لیں گے ہمارا کیا ہے

ہاتھ آیا نہ اگر دست حنائی تیرا
انگلیاں خوں میں ڈبو لیں گے ہمارا کیا ہے

تم نے محلوں کے علاوہ نہیں دیکھا کچھ بھی
ہم تو فٹ پاتھ پہ سو لیں گے ہمارا کیا ہے

اپنی منزل تو سرابوں کا سفر ہے باقیؔ
ہم کسی راہ پہ ہو لیں گے ہمارا کیا ہے

باقی احمد پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم