MOJ E SUKHAN

ظرف سے بڑھ کے ہو اتنا نہیں مانگا جاتا

غزل

ظرف سے بڑھ کے ہو اتنا نہیں مانگا جاتا
پیاس لگتی ہے تو دریا نہیں مانگا جاتا

چاند جیسی بھی ہو بیٹی کسی مفلسی کی تو
اونچے گھر والوں سے رشتہ نہیں مانگا جاتا

دوستی کر کے ہوا سے جو جلا دیں گھر کو
ان چراغوں سے اجالا نہیں مانگا جاتا

اپنے کمزور بزرگوں کا سہارا مت لو
سوکھے پیڑوں سے تو سایہ نہیں مانگا جاتا

پیٹ بھرتے ہیں جو مانگے ہوئے ٹکڑے کھا کر
ان کے ہاتھوں سے نوالہ نہیں مانگا جاتا

بھیک بھی مانگو تو تہذیب کا کاسہ لے کر
ہاتھ پھیلا کے خزانہ نہیں مانگا جاتا

ہے عبادت کے لئے شرط عقیدت داناؔ
بندگی کے لئے سجدہ نہیں مانگا جاتا

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم