MOJ E SUKHAN

غزل

جس کی جانب تو اک نظر دیکھے
خواب تیرے وہ عمر بھر دیکھے

چین پایا کہیں نہ اس دل نے
گھوم کر ہم نے سو نگر دیکھے

داغ مانا ہیں میرے دامن پر
اپنا چہرہ بھی وہ مگر دیکھے

زہر دیتے رہے مریضوں کو
ہم نے ایسے بھی چارہ گر دیکھے

لطف چاہے جو کوئی جینے کا
اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھے

وہ ہی دن بھر رہا خیالوں میں
خواب تھے جس کے رات بھر دیکھے

حسن بکھرا ہے چار سو ان کا
چشم ہاتفؔ کدھر کدھر دیکھے

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم