MOJ E SUKHAN

وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں

غزل

وہ کون دل ہے جہاں جلوہ گر وہ نور نہیں
اس آفتاب کا کس ذرہ میں ظہور نہیں

کوئی شتاب خبر لو کہ بے نمک ہے بہار
چمن کے بیچ دوانوں کا اب کے شور نہیں

تجلیوں سے پہنچتا ہے کب اسے آسیب
صنم کدہ ہے نہ آخر یہ کوہ طور نہیں

ترے سفر کی خبر سن کے جان دھڑکوں سے
جو پہنچوں مرگ کے نزدیک میں تو دور نہیں

کوئی بھی دیتا ہے لڑکوں کے ہاتھ شیشۂ دل
یقیںؔ میں غور سے دیکھا تو کچھ شعور نہیں

انعام اللہ خاں یقیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم