MOJ E SUKHAN

ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہے

ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہے
یہ پگلی پھر بھی اب تک خود کو شہزادی بتاتی ہے

کئی باتیں محبت سب کو بنیادی بتاتی ہے
جو پردادی بتاتی تھی وہی دادی بتاتی ہے

جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیں
وہاں ایک گھونسلا چڑیوں کا تھا، دادی بتاتی ہے

ابھی تک یہ علاقہ ہے رواداری کے قبضے میں
ابھی فرقہ پرستی کم ہے آبادی بتاتی ہے

یہاں ویرانیوں کی ایک مدت سے حکومت ہے
یہاں سے نفرتیں گزری ہیں بربادی بتاتی ہے

لہو کیسے بہایا جائے یہ لیڈر بتاتے ہیں
لہو کا ذائقہ کیسا ہے یہ کھادی بتاتی ہے

غلامی نے ابھی تک ملک کا پیچھا نہیں چھوڑا
ہمیں پھر قید ہونا ہے یہ آزادی بتاتی ہے

غریبی کیوں ہمارے شہر سے باہر نہیں جاتی
امیر شہر کے گھر کی ہر اک شادی بتاتی ہے

میں ان آنکھوں کے میخانے میں تھوڑی دیر بیٹھا تھا
مجھے دنیا نشے کا آج بھی عادی بتاتی ہے

منور رانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم