MOJ E SUKHAN

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندر

کیوں کرتا ہے کم ظرفوں سے تو تکرار سمندر
جیسے گزرے خاموشی سے وقت گزار سمندر

ایسے دیکھا کرتا تھا میں اس کی جھیل سی آنکھیں
جیسے کوئی دیکھ رہا ہو پہلی بار سمندر

آج نہ جانے دوں گا تجھ کو اپنی آنکھ سے باہر
دھاڑیں مار سمندر چاہے ٹھاٹھیں مار سمندر

صحرا پار کیا ہے میں نے کر کچھ سر کا صدقہ
مجھ پر وار سمندر کوئی ٹھنڈا ٹھار سمندر

جتنی آسانی سے میں نے تجھ کو پار کیا ہے
کیا تو ایسے کر سکتا ہے مجھ کو پار سمندر

جنم جنم کی پیاس بھری ہے میری اس مٹی میں
میرے ذرے ذرے کو ہے اب درکار سمندر

اک بحرِ مردار کی صورت اور اک بحرِ الکاہل
میرے ساتھ کہاں تک چلتے یہ بیمار سمندر

میں سیراب کروں صحراؤ میری آنکھ میں آؤ
پیاس تمہاری ہے ہی کتنی بس دو چار سمندر

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم