MOJ E SUKHAN

تو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں

تو ہی کہتا تھا کہ ہوتی ہے ہوا پانی میں
بس تری مان کے میں کود پڑا پانی میں

یوں ہوئے تھے مرے اوسان خطا پانی میں
سانس لینا بھی مجھے بھول گیا پانی میں

اس قدر شور کی عادی نہ تھی آبی دنیا
جس قدر زور سے میں جا کے گرا پانی میں

جھیل پہ رات گئے تم یہ کسے ڈھونڈتے ہو
کیا تمہارا بھی کوئی ڈوب گیا پانی میں

اس کے لہجے میں پکارا ہے مجھے موجوں نے
تم کنارے پہ رہو، میں تو چلا پانی میں

جاں نکلتے ہی مرا جسم سرِ آب آیا
جب تلک سانس رہی ، میں بھی رہا پانی میں

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم