MOJ E SUKHAN

تم کو تو صرف سیہ رات سے ڈر لگتا ہے

تم کو تو صرف سیہ رات سے ڈر لگتا ہے
ایک میں ہوں جسے ہر بات سے ڈر لگتا ہے

شہر میں جاتے ہوئے ڈرتا ہوں اب تک ایسے
جیسے ویرانے میں جنات سے ڈر لگتا ہے

سانس کی آنچ سے مجھ کو گلِ حکمت کر دے
کوزہ گر! اب مجھے برسات سے ڈر لگتا ہے

بات ادھوری ہو تو مفہوم بدل جاتے ہیں
تنگئی وقتِ ملاقات سےڈر لگتا ہے

میرا بیٹا بھی تو میری ہی طرح سوچتا ہے
اس کے پیچیدہ سوالات سے ڈر لگتا ہے

اپنے دشمن کی کسی چال سے کب ڈرتا ہوں
مجھ کو اندر کے فسادات سے ڈر لگتا ہے

گھر پہ منتر نہ کہیں پھونک دے جادو گرنی
زندگی! تیرے طلسمات سے ڈر لگتا ہے

قہر اب شہر پہ ہے ٹوٹنے والا دوشی
عرش پر جاتی شکایات سے ڈر لگتا ہے

رانا سعید دوشی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم