MOJ E SUKHAN

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی

اسیر لمحۂ موجود ہو گئے ہم بھی
خود اپنی ذات کے سائے میں کھو گئے ہم بھی

لگاؤ سنگ صدا شیشہ سکوت پہ آج
زمانے والو پکارو کہ سو گئے ہم بھی

لگے تو شاخ پہ اک برگ زرد کی مانند
گرے تو گرد حقارت میں کھو گئے ہم بھی

نہ دیکھ پائے حقیقت کے ہولناک نقوش
ہزار رنگ نقابوں میں کھو گئے ہم بھی

ہمارا ذوق سخن گوئی صرف ذوق نہ تھا
کہ ایک عہد کو اس میں سمو گئے ہم بھی

غموں کی دھار وہی ہے الم کی کاٹ وہی
نہ جانے کیسے عیاںؔ کند ہو گئے ہم بھی

رشیدہ عیاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم