MOJ E SUKHAN

اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے

اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے
اک شخص تھا کہ مل نہ سکا عمر بھر مجھے

شعلوں کی گفتگو میں صبا کے خرام میں
آواز دے رہا ہے کوئی ہم سفر مجھے

شاید انہیں کا عجز مرے کام آ گیا
جن دوستوں نے چھوڑ دیا وقت پر مجھے

شب کو تو ایک قافلۂ گل تھا ساتھ ساتھ
یا رب یہ کس مقام پہ آئی سحر مجھے

ہنستے رہے فلک پہ ستارے زمیں پہ پھول
اچھا ہوا کہ عمر ملی مختصر مجھے

مدت کے بعد اس نے سر انجمن ضمیرؔ
دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کر مجھے

سید ضمیر جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم