اظہارِ غمِ عشق نظر سے نہ زباں سے
رخ ہم بھی فسانے کا بدلتے ہیں یہاں سے
دیکھا تو بہت نقش وہاں چھوڑ گئے ہم
دامن کو بچاتے ہوے گزرے تھے جہاں سے
یہ نور بھری رات تو خاموش فضائیں
بیدار ہوئے ہم بھی کہاں خوابِ گراں سے
اے بیخودئ شوق سہارا دے سہارا
سوچا ہے گزر جائیں حدِکون و مکاں سے
ہر شے کو توجہ سے فدا دیکھ رہا ہوں
معلوم نہیں کوئی نمایاں ہو کہاں سے
فدا خالدی