MOJ E SUKHAN

فضائے دہر میں نور خدا کی خوشبو ہے

فضائے دہر میں نور خدا کی خوشبو ہے
جدھربھی دیکھئےخیرالوری کی خوشبو ہے

گلاب اپنے مقدر پہ فخر کر ، تجھ میں
بسی ہوئی عَرَقٍ مصطفی کی خوشبو ہے

ذرا سی دیر کو ہاتھوں سے چھو کے آیا ہوں
ابھی بھی ذہن میں خاکِ شفاکی خوشبو ہے

عمل ہی کرتا ہے عشق رسول کو ظاہر
جواہل دل ہیں انہی میں وفاکی خوشبوہے

ہمارا نامہ ء اعمال سونگھ کر دیکھو
رچی بسی ہوئی حمد و ثنا کی خوشبو ہے

وہ کوہسار ہوں صحرا ہوں یا کہ گلشن ہوں
سبھی میں پیکر نور خدا کی خوشبو ہے

تبھی تو نعت کے اشعار خوب ہیں مختار
شعور و فکر میں خون وفا کی خوشبو ہے

مختار تلہری ثقلینی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم