MOJ E SUKHAN

کرم نما ستمِ حسن کا شکار ہوں میں

کرم نما ستمِ حسن کا شکار ہوں میں
فریب خوردہِ رنگینئی بہار ہوں میں

مجھی سے رونقِ دنیا مجھی سے رونقِ دیں
نگاہِ غور طلب حاصلِ بہار ہوں میں

پلا پلا تو ابھی بادہء جمال مجھے
دکھا دکھا ابھی جلوہ کہ ہوشیار ہوں میں

وہ میں تھا کل کہ فلک کو تھی آرزو میری
وہ میں ہوں آج کہ پشتِ زمیں پہ بار ہوں میں

میرا کلام حقیقت سے آشنا ہے فدا
کہ راز ہائے مشیت کا راز دار ہوں میں

فدا خالدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم