نہیں میں ہر گز نہیں پریشاں
ہنسی میں آنکھیں چھلک گئی ہیں
گلا بھرایا ہوا ہے میرا
تمہیں بھی اوہام ٹوکتے ہیں
تو چونک اٹھتی ہوں میں بھی جاناں
کبھی جو رستے میں آ کے یک دم
گئے دنوں کے مہیب سائے
مجھے اچانک سے روکتے ہیں
کرن رباب
نہیں میں ہر گز نہیں پریشاں
ہنسی میں آنکھیں چھلک گئی ہیں
گلا بھرایا ہوا ہے میرا
تمہیں بھی اوہام ٹوکتے ہیں
تو چونک اٹھتی ہوں میں بھی جاناں
کبھی جو رستے میں آ کے یک دم
گئے دنوں کے مہیب سائے
مجھے اچانک سے روکتے ہیں
کرن رباب