MOJ E SUKHAN

تشنگی زندہ حوالوں میں بدل جاتی ہے

تشنگی زندہ حوالوں میں بدل جاتی ہے
مشک جب پاؤں کے چھالوں میں بدل جاتی ہے

ہم سے اک بار ملو گے تو کھلے گا تم پر
تیرگی کیسے اجالوں میں بدل جاتی ہے

کیا ہوا وہ جو نظر آتے ہیں بدلے بدلے
شکل دانے کی ابالوں میں بدل جاتی ہے

بات جو اہلِ صداقت کی زباں سے نکلے
رفتہ رفتہ وہ مثالوں میں بدل جاتی ہے

عشق کی موج کو لفظوں کی ضرورت ہی نہیں
یہ خیالوں ہی خیالوں میں بدل جاتی ہے

کچھ نہ کچھ ہجر کے صدمے بھی اثر کرتے ہیں
کچھ نہ کچھ شکل بھی سالوں میں بدل جاتی ہے

جان جینے کی روایت سے بغاوت کرکے
زندگی کتنے سوالوں میں بدل جاتی ہے

جان کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم