MOJ E SUKHAN

وہ جو دیکھی نہیں جاگیر خریدی جائے

وہ جو دیکھی نہیں جاگیر خریدی جائے
آنکھ سے خواب کی تعبیر خریدی جائے

مسئلہ فن کا نہیں مسئلہ فنکار کا ہے
اس کے گھر سے کوئی تصویر خریدی جائے

کاٹ کر بھوک تنفس کے بقا کی خاطر
جیسے ہو طاقتِ شمشیر خریدی جائے

عشق یہ خاک ہوا عشق کی توہین ہوئی
کیسے رانجھے کے لیے ہیر خریدی جائے

جان وعدے کو ذرا ٹھونک بجا کر دیکھو
کہیں عجلت میں نہ تاخیر خریدی جائے

جان کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم