MOJ E SUKHAN

جو غم گسار تھے وہ کہانی سے کٹ گئے

جو غم گسار تھے وہ کہانی سے کٹ گئے
تم سے بچھڑ کے ہم بھی جوانی سے کٹ گئے

ناکام چاہتوں سے جو پلٹے تو یہ ہوا
ہم گھر کے راستے کی نشانی سے کٹ گئے

شوریدہ سر جو دھارے تھے نہروں میں بٹ کے وہ
دریا کی خوش خرام روانی سے کٹ گئے

سلمان جب سے ہجر کی راتیں نہیں رہیں
اپنے چمن کی رات کی رانی سے کٹ گئے

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم