آنکھ چپ ہے خواب کی تعبیر کا سایا پڑے
اب مری تصویر پر تصویر کا سایا پڑے
پھر مسلسل کچھ دنوں تک قید میں رہتا ہوں میں
پاؤں پر میرے اگر زنجیر کا سایا پڑے
انتقامی زخم ہے اور مندمل ہونے کو ہے
زخم کھل جائے دوبارہ تیر کا سایا پڑے
شہر سے آیا ہے بیٹا چاہتی ہے ایک ماں
میرے بیٹے پر نہ اس جاگیر کا سایا پڑے
ذات کے جنگل میں خود کو کس طرح ڈھونڈوں گا میں
اس اندھیرے میں کسی تنویر کا سایا پڑے
محمد مظہر نیازی