MOJ E SUKHAN

آنکھ چپ ہے خواب کی تعبیر کا سایا پڑے

آنکھ چپ ہے خواب کی تعبیر کا سایا پڑے
اب مری تصویر پر تصویر کا سایا پڑے

پھر مسلسل کچھ دنوں تک قید میں رہتا ہوں میں
پاؤں پر میرے اگر زنجیر کا سایا پڑے

انتقامی زخم ہے اور مندمل ہونے کو ہے
زخم کھل جائے دوبارہ تیر کا سایا پڑے

شہر سے آیا ہے بیٹا چاہتی ہے ایک ماں
میرے بیٹے پر نہ اس جاگیر کا سایا پڑے

ذات کے جنگل میں خود کو کس طرح ڈھونڈوں گا میں
اس اندھیرے میں کسی تنویر کا سایا پڑے

محمد مظہر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم