MOJ E SUKHAN

سنگ جب آئینہ دکھاتا ہے

سنگ جب آئینہ دکھاتا ہے
تیشہ کیا کیا نظر چراتا ہے

سلسلہ پیاس کا بتاتا ہے
پیاس دریا کہاں بجھاتا ہے

ریگزاروں میں جیسے تپتی دھوپ
یوں بھی اس کا خیال آتا ہے

سن رہا ہوں خرام عمر کی چاپ
عکس آواز بتا جاتا ہے

وہ بھی کیا شخص ہے کہ پاس آکر
فاصلہ دور تک بچھاتا ہے

گھر تو ایسا کہاں تھا لیکن
در بدر ہیں تو یاد آتا ہے

(امید فاضلی)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم